حضرت حبیب بن عمیر رحمت اللہ کا تقویٰ
حبیب بن عمیر رحمت اللہ علیہ تابعی ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شاگرد تھے بہت خوبصورت تھے قید ہو گئے کل 10 ادمی تھے
تو انہوں نے قتل کر دیے ان کو پکڑ لیا رومن سردار نے کہا میں غلام بناؤں گا قید میں لے کر کہنے لگا اگر تو عیسائی ہو جائے تو میں تجھے اپنی بیٹی دے دوں گا تجھے اپنی ریاست میں حصہ بھی دوں گا انہوں نے فرمایا تو اگر سارا جہان بھی دے دے یہ نہیں ہو سکتا کفر تو بے حیا ہوتا ہی ہے حیات و سراسر اسلام میں ہے اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ اس سے بدکاری کرو جب یہ اس
رخ پر ائے گا تو اسلام بھی چھوڑ جائے گا روم کی لڑکی تھی ادھر روم کا حسن ادھر عرب کی جوانی اگ بھی تیز ہے اور رقوت بھی جوان ہے اور دو ہیں تیسرا ہے کوئی نہیں اب یہاں ساری رکاوٹیں ختم ہیں اور وہ عورت دعوت دے رہی ہے اور یہ نوجوان اپنی نظر جھکانے کی لذت چکے ہوئے ہے اسے پاک دامنی کی لذت کا پتہ ہے لہذا اس کی نظر اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتی اس نے سارے جتن کر مارے
اپنے حسن کا ہر تیرا ازمایا اپنے مکر کا ہر جال پھینکا لیکن پاک دامنی کی تلوار نے ہر ہر جال کے ہر ہر تار کو تار تار کر دیا اور ہر تیر کو بیکار کر دیا اخر تین دن کے بعد اس نے ہتھیار ڈال دیے کہنے لگی اللہ کے بندے یہ تو بتا تجھے روکتا کون ہے اج تیسرا دن ہے تو مجھے نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہا روکنے والا کون ہے اس نے کہا مجھے روکنے والا وہ ہے جو نہ سوم سوتا ہے اور نہ ہی اونگھتا ہے وہ مجھ سے غافل نہیں میں اس سے غافل ہوں
S4
وہ میرا رب ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے فرش پر بیٹھ عرش پر بیٹھ کر کہ میری محبت غالب اتی ہے یہ شہوت غالب اتی ہے مجھے اگے کرتا ہے یہ شیطان کو اگے کرتا ہے اے لڑکی مجھے میرے رب سے حیا اتی ہے
S5
اس لیے میں نے اپنی طاقت کو روک رکھا ہے وہ باہر نکل کر باپ سے کہنے لگی اپ نے مجھے کس پتھر کے پاس بھیجا ہے کس لوہے کے پاس بھیجا ہے جو نہ دیکھتا ہے نہ کھاتا ہے نہ کہاں سے گمراہ کروں یہ تو تھا ایک تابعی کا مقام ایک تابعی کا تقوی سوچیے تو صحیح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تقوی کیا ہوگا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں